” زندگی بس اتنی ہی تھی . عالیہ جمشید خاکوانی کا آئینہ

آئینہ
عالیہ جمشید خاکوانی
زندگی بس اتنی ہی تھی
صبح دم جب دادا سورۃیٰسین کی تلاوت کرتے تو اس کی آنکھ کھل جاتی تلاوت کی خوش الحانی جیسے قطرہ قطرہ اس کے وجود میں جذب ہوتی رہتی
اماں نوراں دیسی گھی میں تربتر نرم ملائم پراٹھے ،چینی کے سفید پیالوں میں ایک میں ٹاہلی سے اترا ہوا اصلی شہد،ایک میں سفید مکھن کا پیڑا ایک میں گھر کا جما ہوا تازہ دہی ،باریک کتری ہوئی پیاز،دھنیا اور ہری مرچوں والا پھولا پھولا آملیٹ دستر خوان پر سجاتی تو تو ہاتھ منہ دھوتے ہوئے وہ سوچتی ،آسودگی اتنی ہی تھی دن چڑھتے ہی ٹاہلی کے ساتھ بندھی پینگ (رسے کا جھولا) پر جا چڑھتی جھولے لیتی وہ باہر کی دنیا کو دیکھنے کے لیے زور سے پینگ بڑھاتی جتنی زور سے جھونٹا آتا اتنی ہی دیوار کے اس پار کی دنیا واضح ہوتی جاتی وہ سوچتی امنگ اتنی ہی تھی
دوپہر کو اونچی چھت والے وسیع دالان میں نقشین پایوں والے نواڑی پلنگوں پر سب کے سو جانے کے بعد بھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور رہتی چھت سے لٹکتا چاندی کی گھونگریوں والا پنکھا جھلاتی اندھی بڑھیا پہ نظریں جمائے وہ سوچتی رہتی بے بسی اتنی ہی تھی سہہ پہر کو آٹے والی چکی کے کنڈے پر ساری لڑکیاں جمع ہو جاتیں خوب شغل لگتا باری باری کنڈے پر تلتے ہوئے اسے احساس ہوتا وہ ساری لڑکیوں سے وزن میں ہلکی ہے زیناں کہتی تھی جو لڑکی بھائیوں کے اوپر پیدا ہو پھولوں کی طرح ہلکی ہوتی ہے اناروں کے باغ میں بہتی ندی پر بنے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے پلوں پر لڑکیا ں ندی کے پانی میں پاؤں لٹکا کر بیٹھ جاتیں ندی کا پانی جب پاؤں کے تلووں کو گدگداتا گلابی رنگت والی وہ چھوٹی سی لڑکی اپنے گلابی پاؤں دیکھتے ہوئے سوچتی سر خوشی اتنی ہی تھی
سر شام ہی گاؤں میں اندھیرہ پھیل جاتا کریہہ صورت چمگاڈریں آسمان کا طواف کرنے لگتیں (اسے چمگاڈریں بہت بری لگتیں کہ بڑے کمرے میں رکھے آموں کے چھابے ان سے بھرے ہوتے تھے)حویلی میں جگہ جگہ گیس کے ہنڈے جل جاتے تو وہ سوچتی روشنی اتنی ہی تھی،رات کو جب بھی اس کی آنکھ کھلتی مصطفی کی بانسری کی درد بھری لے سنائی دیتی اس نے سنا تھا مصطفی کا پیار چھن گیا ہے وہ اسے ڈھونڈتا پھرتا ہے وہ اس کے درد کو محسوس کرتی اداسی اتنی ہی تھی،پورے چاند کی رات اسے مست و بے خود کر دیتی چکور پورے چاند کے گرد چکر کاٹتا ہے لڑکیاں بتاتی تھیں اور چکر کاٹتے کاٹتے گر کر مر جاتا ہے اس مرے ہوئے چکور کو کوئی بھی کتا کھا لے تو باؤلا ہو جاتا ہے گاؤں میں یہ روایت چکراتی پھرتی تھی وہ بڑے غور سے چاند کو تکتی رہتی تھی کبھی سرہانے تلے رکھا آئینہ نکال کر اس میں چاند کو قریب کر کے دیکھتی بے خودی اتنی ہی تھی
آدھے چاند کی رات تھی ملگجے اجالے میں تیز تیز چلتی ہوا میں کھلے آسمان کے نیچے چارپائی پر سیدھی لیٹی وہ سوچوں میں گم ،ہوا کا زور کا جھکولا آتا تو جگنوؤں کی اڑتی ہوئی ڈاریں زمین سے جا لگتیں وہ بھاگ کر ان میں سے کئی ایک کو مٹھیوں میں قید کر لیتی اور دادی کے ولائتی پاؤڈر والے خالی ڈبے میں ڈالتی جاتی جب ان کو اپنے کالے سیاہ بالوں میں اٹکاؤں گی تو کتنے پیارے لگیں گے جگنوؤں کو قید کرنے والی کو کب کسی نے اپنی مٹھی میں قید کیا پتہ ہی نہ چلا وہ سوچتی ہی رہ گئی زندگی بس اتنی ہی تھی!