ادبی دنیانثرکالم

سیاسیات اور شوہریات (طنز و مزاح سے بھر پور میانوالی کے توصیف احمد کی خوبصورت تحریر )

سیاسیات اور شوہریات (طنز و مزاح) (توصیف احمد‘ میانوالی)
جیسے ارینج میرج اور لو میرج میں یہ فرق ہے کہ ارینج میں بندے کو گھر والے کنویں میں ڈالتے ہیں اور لو میں بندہ خود کنویں میں چھلانگ لگاتا ہے اسی طرح جیل جانے اور سسرال جانے میں یہ فرق ہے کہ سسرال میں بندہ خود جاتا ہے اور جیل میں لے جایا جاتا ہے۔میں نے آج تک ایسا کچھ نہیں کیا کہ مجھے جیل لے جانا پڑا ہو مگر ایسا کچھ ضرور کرنے والا ہوں جس کی وجہ سے سسرال جانا پڑ سکتا ہے۔ قول مشہور ہے کہ سیاستدان جیل کو اپنا سسرال سمجھتے ہیں اس حساب سے غیر سیاسی لوگ سسرال کو جیل سمجھتے ہوں گے۔ ہمارے ملک میں سیاستدان اس وقت تک سیاستدان نہیں بنتا جب تک وہ جیل نہ جائے اور وہ جگہ جیل ہو ہی نہیں سکتی جہاں کوئی سیاستدان اسیری کے دن نہ گزار چکا ہو۔
شوہر اور سیاستدان ہمیشہ ایک ہی راستے پر چلتے ہیں، ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ عوام یا بیوی کو سبز باغ دکھاتے رہو اور اپنا وقت گزارتے رہو، جو شوہر حضرات اپنی بیوی سے ڈر کر زندگی گزارتے ہیں وہ ان سیاستدانوں کی مانندہوتے ہیں جو اپوزیشن کے بینچوں پر بیٹھ کر اپنی سیاست کرتے ہیں۔ کیونکہ اسمبلی میں چلنی تو حکومت کی ہوتی ہے اور گھر میں بیوی کی۔ ویسے اس قسم کے شوہروں کی تعداد کافی زیادہ ہے ہمارے ملک میں اور اس میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے شائد یہ آزادی نسواں کے بل کا اثر ہے۔
سیاستدانوں کی بہت سی اقسام ہیں، کچھ سیاستدان عظیم ہوتے ہیں اور کچھ خود کو ؑ عظیم سمجھتے ہیں، کہتے ہیں سیاست اور جھوٹ کا چولی دامن کا ساتھ ہے، سیاست دان چاہے کہیں بھی چھپا بیٹھا ہو جھوٹ اس کی طرف بھاگا چلا آتا ہے، یہی حال شوہر حضرات کا ہے بس فرق یہ ہے کے شوہروں کا جھوٹ بیویاں جلد پکڑ لیتی ہیں۔ تصویر کا دوسرا رخ بھی بہت سنگین ہے، اکثر بیویاں بھی بہت مظلوم ہوتی ہیں‘ وہ الگ بات ہے کہ میں جب بھی یہ بات کرتا ہوں میرے دوست کہتے ہیں کتابی باتیں مت کیا کرو‘ ظالم بیوی اور مظلوم بیوی میں یہی فرق ہے کہ ظالم بیوی کا شوہر مظلوم ہوتا ہے اور مظلوم بیوی کا شوہر ظالم ہوتا ہے۔ ویسے شوہر اور سیاستدان کب کہاں ہوتے ہیں یہ ان کے سوا کوئی نہیں جانتا صرف بیوہ عورت ہی یقین سے بتا سکتی ہے کہ اس کا شوہر اس وقت کہاں ہے۔
ذکر اپنے ملک کے سیاستدانوں کا کریں تو پنجاب کے میاں سوتے بہت کم ہیں اور سندھ کے سائیں جاگتے بہت کم ہیں، پختونخواہ کے خان باتیں کم کام زیادہ کرتے ہیں جب کے بلوچستان کے نواب باتیں زیادہ کام کم کرتے ہیں، پڑوسی ملک بھارت کے سیاستدان ستے کے لئے ہر سیاہ کام کرتے ہیں انکی یہی سیاست ہے۔ افغان سیاست دان ابھی طالبان سے سیاست سیکھ رہے ہیں، ایران کے سیاست دان سیاست سیکھے ہوئے ہیں مگر کرتے نہیں ہیں، امریکہ کے بارے میں کچھ کہنا ٹھیک نہیں ہوگا اس سے بہتر ہے شیخ رشید صاحب پہ بات کر لی جائے، شیخ صاحب جیسے سیاست دان بہت کم پیدا ہوتے ہیں اور اسی میں ہمارے ملک کی عافیت ہے، ان کے ٹاک شوز میں بولنے سے خواتین انسپریشن لیتی ہیں، شیخ ساحب نے شخصیت مردانہ مگر زبان زنانہ پائی ہے ، شیخ صاحب میں یہ بھی خصوصیت ہے کہ وہ صرف سیاستدان ہیں شوہر نہیں ہیں۔ جیل جانا انکا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ میاں برادران بھی کسی سے کم نہیں ہیں، ان کا خواب ہے کہ ملک میں سڑکوں کا جال پھیلانا ہے، ممکن ہے آنے والے دور میں ملک کی ریلوے لائنز کو بھی سڑکوں میں بدل دیا جائے خیر یہ تو بعد کی بات ہے، اکثر بیماریاں موروثی ہوتی ہیں اور ہمارے ملک کی قومی موروثی بیماری سیاست ہے۔
ذکر شوہروں کا کیا جائے تو یہ ملک کا سب سے مظلوم طبقہ ہے، آج کے دور میں ان سے معصوم اور ستائے ہوئے لوگ بہت کم ہی ملتے ہیں، جہاں سیاستدان دوسرے ملکوں کے دورے کرتے ہیں وہاں یہ لوگ حالات سے تنگ آکر دل کے دورے پر نکل جاتے ہیں، ان کے لئے گھر کو چلانا ملک چلانے سے کم نہیں۔آجکل تو بچوں کے سکول کی ماہانہ فیس اتنی ہے جتنے میں پہلے پرائمری جماعت پاس کر جاتے تھے، ان سب حالات کے مقابلے کے بعد جب ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بیوی سے یہی سنتا ہے کہ تم نے کیا ہی کیا ہے ساری زندگی تو لاجواب ہو جاتا ہے۔ عقلمند عورت وہ ہوتی ہے جو شوہر کی رضا میں راضی رہے اور عقلمند مرد وہ ہوتا ہے جو عورت کو بیوی ہی نہ بننے دے اور شادی کے بعد تو وہی صورت حال رہتی ہے کہ بقول شاعر ’’پہلے آتی تھی حال دل پہ ہنسی، اب کسی بات پہ نہیں آتی‘‘ اور قوی امکان ہے کہ غالب نے یہ مصرع اپنی شادی کے بعد لکھا ہوگا۔
عشق، پیار اور محبت یہ بھی ہندوستان، بھارت اور انڈیا کی طرح ایک ہی دشمن کے تین نام ہیں، جو عشق میں ناکام ہو جاتا ہے وہ عاشق ہی رہتا ہے مگر جو کامیاب ہو جاتا ہے وہ شوہر بن جاتا ہے، خودکشی وہ واحد کام ہے جس کی ناکامی پرافسوس کی بجائے خوشی ہوتی ہے اور شادی وہ واحد کام ہے جسکی کامیابی پر افسوس ، شادی شدہ افراد کو محبت ضرور کرنی چاہیے مگر شرط یہ ہے کہ بیوی کو خبر نہ ہو۔ میں نے اکثر لوگوں کہ اپنی محبت کی داستان سناتے ہوئے سنا ہے اور اختتام اس جملے پر ہوتا ہے کہ اور پھر میرے شادی ہو گئی۔ ہمارے ملک میں محبت کرنا جرم ہے مگر قتل کرنا غیرت مندی ہے ویسے محبت اور جنگ میں سب جائز ہے مگر محبت میں شادی سے پہلے بچے ناجائز ہوتے ہیں، شادی ہمیشہ بچوں کی خواہش میں کی جاتی ہے مشرق اور مغرب میں یہی فرق ہے، یہاں بچہ ہو اس لئے شادی کرتے ہیں وہاں بچہ ہونے والا ہوتا ہے اس لئے کرتے ہیں۔
سیاستدانوں اور بیویوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں کسی کی نہیں سنتے بس اپنی سناتے ہیں، بیوی طلاق سے اور سیاست دان مارشل لاء سے ڈرتے ہیں، آجکل کے وزیر تو نیب سے بھی ڈرتے ہیں، اکثر مرد شادی سے پہلے دفتر آتے نہیں ہیں اور شادی کے بعد دفتر سے جاتے نہیں ہیں، جیسے اقتدار کے بعد وزیر اسمبلی میں نہیں جاتے۔ الغرض اگر آپ سیاستدان ہیں یا شوہر ہیں تو اقتدار اور بیوی سے بچ کر رہیں کیونکہ آہا کو آہ بنتے دیر نہیں لگتی!
(نوٹ : قارئین کا مصنف کی باتوں سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Back to top button